مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: صہیونی اسٹریٹجک مراکز نے اسرائیل کو درپیش داخلی اور خارجی خطرات کی ایک تفصیلی فہرست تیار کی ہے، جس میں سکیورٹی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی چیلنجز کو شامل کیا گیا ہے۔ جائزے کے مطابق اسرائیل ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں کئی خطرات بیک وقت اس کی سلامتی، سیاسی استحکام اور عالمی حیثیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایران، فلسطین، عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ، داخلی اتحاد، اقتصادی مسائل، یمن، ترکی اور خطے کی بدلتی صورتحال آنے والے برسوں میں اسرائیل کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔
اس تناظر میں مختلف خطرات کا جائزہ لیا گیا، جن میں شدت، ممکنہ وقوع اور نقصان کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے چار خطرات کو آئندہ پانچ برسوں کے لیے سب سے زیادہ سنگین قرار دیا گیا ہے۔
صہیونی معاشرے میں پرتشدد داخلی کشیدگی
اسرائیل کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی اور سماجی تقسیم کو ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف صہیونی طبقات کے درمیان اختلافات، حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتی خلیج اور اندرونی سیاسی تنازعات استحکام کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔
اس خطرے کو 39 فیصد افراد نے اسرائیل کے لیے بڑے خدشات میں شامل کیا ہے۔ داخلی اتحاد میں کمزوری کو اسرائیل کی مجموعی سلامتی کے لیے نقصان دہ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اندرونی اختلافات بیرونی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ایران کی جوہری صلاحیت
ایران کی جوہری صلاحیت میں ممکنہ پیش رفت اسرائیل کے لیے ایک اہم ترین خطرہ قرار دی گئی ہے۔ 39 فیصد افراد نے ایران کے جوہری ہتھیار تک پہنچنے کے امکان کو سنگین چیلنج قرار دیا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، خطے میں طاقت کے توازن میں تبدیلی اور مختلف محاذوں پر جاری تنازعات نے اس مسئلے کو اسرائیلی سلامتی پالیسی کا مرکزی موضوع بنا دیا ہے۔
اسرائیلی داخلی محاذ پر بڑے پیمانے پر میزائل حملہ
وسیع پیمانے پر میزائل حملوں کو بھی اسرائیل کے لیے بڑے خطرات میں شمار کیا گیا ہے۔ 35 فیصد افراد کے مطابق یہ خطرہ اسرائیلی داخلی محاذ کے لیے انتہائی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
ایران، شمالی محاذ کی کشیدگی، غزہ کی صورتحال، یمن سے ممکنہ حملے اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اسرائیل کے شہری مراکز، بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی نظام کے لیے خطرہ تصور کی جا رہی ہیں۔
اسرائیل کی جمہوری شناخت کا کمزور ہونا
اسرائیل کے سیاسی اور جمہوری نظام کی کمزوری کو بھی ایک بنیادی خطرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ 31 فیصد افراد نے اسے مستقبل کے اہم چیلنجز میں شامل کیا ہے۔
اسرائیلی معاشرے کے ایک بڑے حصے کا خیال ہے کہ سیاسی نظام میں کمزوری اور اداروں پر اعتماد میں کمی کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح بڑی تعداد میں افراد سمجھتے ہیں کہ حکومت ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔
اس جائزے کے مطابق اسرائیل کو صرف ایک خطرے کا سامنا نہیں بلکہ کئی داخلی، علاقائی اور عالمی چیلنجز بیک وقت درپیش ہیں۔
عوام کی توجہ زیادہ تر فوری سکیورٹی خطرات پر ہے، جبکہ ماہرین داخلی اتحاد، عالمی حمایت میں کمی، سیاسی استحکام اور سماجی مسائل کو طویل المدتی خطرات کے طور پر زیادہ اہم قرار دیتے ہیں۔
صہیونی ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہ نہیں کہ اسرائیل کو سب سے بڑا خطرہ کون سا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگر کئی خطرات ایک ساتھ سامنے آگئے تو اس کے اثرات اسرائیل کی سلامتی، سیاست اور معاشرت پر کس حد تک مرتب ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ